جرح اُردو میں کیا ہوتی ہے؟ عدالت میں جرح کا مقصد

سچائی تلاش کرنے کا بہترین ہتھیار


 

جب گواہ پر سوالات ابتدائی کرلئے جاتے ہیں تو فریق ثانی کا حق ہے کہ وہ ایسے گواہ پر جرح کرے۔ ایک گواہ کی شہادت کے بعد اگر دوسرے فریق کی سچائی بذریعہ جرح جانے کا موقع نہ دیا کیا ہو تو قانونی طور پر ایسی شہادت نا قابل

 

ادخال ہے۔" جرح سچائی تلاش کرنے کا بہت ہی اہم اور واحد پیمانہ ہے۔ گواہ کی گواہی کو جانچنے اور بیچ تلاش کرنے کے لئے سوائے جرح کے دوسرا کوئی طریقہ موجود نہ ہے۔ جرح ہمیشہ مخالف فریق کی طرف سے ہوتی ہے۔ ایک گواہ جب بھی کسی دیوانی یا فوجداری کارروائی میں اپنی شہادت ابتدائی مکمل کر لیتا ہے تو فریق ثانی کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ گواہ سے اس قسم کے سوالات کرے جن کے جوابات سے اس امر کا تعین ہو سکے کہ آیا گواہ سچی شہادت دے رہا ہے یا وہ چھوٹا ہے۔ اسے تمام متعلقہ واقعات کا علم بھی ہے یا نہیں ہے۔ اپنے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے فریق ثانی گواہ پر سوالات جرح کرتا ہے اور وقوعہ یا معاملہ سے متعلق ایسے سوالات کرتا ہے جن کا جواب گواہ کو دیتا ہوتا ہے۔ ایسے سوالات اور جوابات سے عدالت پیچ اور جھوٹ کا تعین کرتی ہے۔ جرح فریق ثانی کا حق ہے۔

 

کسی بھی معاملہ یا امر متنازعہ کے فیصلہ کا انحصار شہادت پر ہوتا ہے اور شہادت کو جانچنے اور پر رکھنے کا واحد طریقہ جرح ہے۔ ایک ماہر قانون دان کے سوالات جرح کے سامنے ایک بہت ہی چالاک ہوشیار اور ماہر گواہ بھی بے بس ہو جاتا ہے اور سچائی اگل دیتا ہے یا پھر خاموش ہو جاتا ہے۔ جرح کے دوران ایسا گواہ غیر ارادی طور پر ایسا بیان دیتا ہے یا ایسی بات کر دیتا ہے جس سے بالواسطہ طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے اور جھوٹی گواہی دے رہا ہے۔ اس طرح ایک بے گناہ ایک جھوٹے گواہ کی جھوٹی گواہی کا شکار ہونے سے بچ جاتا ہے۔ جرح کی اہمیت کا اندازہ ماہرین قانون کی مندرجہ ذیل آزاء سے لگایا جا سکتا ہے۔

 

ماہر قانون مسٹرفیسن (Phipson) کہتا ہے:

 

جرح کا مقصد فریق مخالف کے

 

مقدمہ کو کزور کرتا ہے اور اپنے موقف کی حمایت حاصل کرتا ہے۔ جرح کے

 

ذریعے دودھ سے پانی الگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جرح ہی سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ گواہ کو معلومات

 

متعلقہ کیسے حاصل ہوئیں اور اس کے ذرائع کیا ہیں؟ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے؟“ ماہر قانون مسٹرئیلر (Taylor) کے الفاظ میں: سچ معلوم کرنے کے لئے جرح ایک بہترین ہتھیار ہے۔ گواہ کس حد تک حقیقت بیان کر رہا ہے 

 


No comments