میڈیکل MLC

 قانون سے آگاہی رکھنے والے محب وطن پاکستانیوں ۔۔ میں آپ کی توجہ ایک اہم قانونی پہلو کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہوں اور تمام ارباب اقتدار سے گزارش کرتی ہوں کہ تمام جرائم برخلاف اشخاص کو قابل دست اندازی ہونا چاہئے ۔کیونکہ جب بھی کوئی غریب شخص مار کھا کر تھانہ جاتا ہے تو پولیس اس کو میڈیکل کروانے کا کہتی ہے جب وہ بےچارہ ہسپتال سے میڈیکل کروا کر واپس آتا ہے تو میڈیکو لیگل سرٹیفیکیٹ پر 337A1,337F1,337L2 لکھا ہوتا ہے اور پولیس صرف یہ کہ کر اسے فارغ کر دیتی ہےکہ آپ کی دفعات ناقابل دست اندازی پولیس ہیں( دوسرے لفظوں میں آپ کو مار کم پڑی ہے )اسی طرح کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے اچھی خاصی گالیاں کھا کر اور دھکے کھا کر تھانہ جاتا ہے تو پولیس اس کو یہ کہہ کر فارغ کر دیتی ہےکہ یہ جرم ناقابل دست اندازی پولیس ہیں۔پھر اگر یہی جرائم کسی طاقتور کے ساتھ سر زد ہوں تو بھی جھوٹی دفعات 379،380،392،365 تعزیرات پاکستان ساتھ لگائ جاتی ہیں۔ ۔۔۔آنے والی نسلوں پر احسان عظیم ہو گا ۔۔۔۔جزاک اللہ

No comments