Cross Examination
فوجداری(کریمنل)مقدمات کی تیاری کا طریقہ کار
give due respect to original author -
یہ جس کی تحریر ہے، وہ اپنا نام لکھوا سکتا ہے ۔۔ میں نے کاپی کیا ہے ۔۔ شکریہ
♦♦♦♦♦
فوجداری مقدمات کی تیاری کے لیے سب سے پہلے یہ ملاھذہ کریں کی انویسٹی گیشن آفیسر جاے وقوعہ پر کس وقت پہنچا,کتنے اہلکار اسکے ساتھ تھے اور وقت کیا تھا
جب انویسٹی گیشن آفیسرکو اطلاع ملی تھی تو وہ اس وقت کہاں تھا جب موقع پر آیا تو کتنے لوگ وہاں پر موجود تھے اگر لاش تھی تو وہ کس چیز پر ہسپتال گئی تھی اور لاش کے ساتھ کون گیا تھا
اگر فرد مقبوضگی یعنی ریکوری میموآلہ قتل,پسٹل,بندوق,خنجر,اگر پھندا دیا گیا ہو تو رسی وغیرہ کی فرد مقبوضگی کے نیچے دوگوان کے دستخط ہوتے ہیں
جس گواہ نے ایف آئی آر درج کرائی ہو اسکے اوپر جرح عموماً نہیں کی جاتی مگر جو پولیس اہلکار اسلحہ اور خول وغیرہ لے کر ماہر اسلحہ کے دفتر گیاہو
جس تاریخ کو اسلحہ اسے ملااوروہ لے کر گیا اس تاریخ کی ضمنی ضرورملاھذہ کریں اسک علاوہ میڈیکل رپورٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بھی ضرور ملاھذہ کر لیں
ایک چیز زہن نشین رکھیں کہ عام طور پر قتل کے مقدمات میں ایک گواہ مٹی آلود پارچات کا بھی گواہ ہوتا ہےلہذا ایک چارٹ بنا لیں جس میں گواہ کا نام لکھ کر اسکے سامنے جتنی تاریخوں میں وہ گواہ ہے اسکا اندراج کرلیں تاکہ جرح کے وقت کوئی بات رہ نہ جاے
ایک بات یاد رکھیں کہ جرح صرف وہاں کریں جہاں ضروری ہو ,غیر ضروری جرح کرکے خانہ پری نہ کریں کیونکہ یہ آپکے کیس کو ہی کمزور کرے گی
جرح نہایت اہمیت کی حامل ہے لہذا چاہے آپ مدعی سائیڈ پر ہوں ی ملزم سائیڈ پر ہوں جرح کی تیاری مکمل طریقہ سے کریں
مزید فوجداری مقدمات کی تیاری کے لیے سپریم کورٹ کو اتھارٹی پی ایل ڈی 1995صفحہ نمبر 34 ضرور ملاحذہ کریں اس سے کافی حد تک راہنمائی ملے گی
جہاں پر مدعی ٹرائل کورٹ میں کوئی بیان دے اور اس بیان پر جرح نہ ہوئی ہو تو مدعی کی ایسی بیان کی کوئی value نہیں ہے
2022 PCrLJ 1088
Art. 133--- Cross -examination--- Incomplete Cross -examination---Effect---Where statement of complainant was recorded in a case by the Trial Court and his Cross -examination was reserved but subsequently he did not make himself available for Cross -examination though efforts were made to procure his attendance, High Court observed that his statement without Cross -examination could not be termed as legal statement and had lost its evidentiary value, therefore, could not be relied upon being unreliable piece of evidence."
فوجداری کیسوں میں شہادت کے کسی حصے کو محض اس لئے درست تسلیم نہ کیا جائے گا، کہ اس پر جرح نہ کی گئی ہے. (آسیہ مسیح والا کیس)
(PLD 2019 SC 64)
دوران ٹرائیل، ملزم کسی بھی گاڑی وغیرہ کی ملکیت کو ثابت کرنے کے لئے، ایکسائز آفس کے ریکارڈ کیپر کو بمعہ ریکارڈ، بطورِ گواہ طلب کروا سکتا ہے،
(2015 YLR 782).
دورانِ جرح کوئی Suggestion دینے کا مطلب یہ نہ ہو گا، کہ Defence کی جانب سے وقوعہ تسلیم کر لیا گیا ہے.
(2014 PCrLJ 11).
جب تک کسی دستاویز کو قانونی طور پر ایگزبٹ نہ کروایا جائے، تو اسے Consider نہ کیا جا سکتا ہے.
(2006 PCrLJ 1573).
فوجداری کیسز میں دورانِ شہادت کوئی گواہ کسی دستاویز کو اپنے پاس سے پیش کر کے ایگزبٹ نہ کروا سکتا ہے، بلکہ تمام دستاویز کا دورانِ تفتیش پیش کرنا لازم ہے.
(2004 MLD 1099).
مدعی اگر وقوعہ کا چشم دید گواہ ہو تو صرف مدعی کی شہادت پر بھی سزا ہو سکتی ہے.
2018 PCrLJ 757 (b)
2018 MLD 1672 (b)
ویڈیو لنک کی شہادت کیلئے گواہ کا سکرین پر اپنی شناخت بزریعہ شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا ڈرائیونگ لائسنس ثابت کرنا ضروری ہے.
2020 PCrLJ 1184 (b)
اگر شہادت پر جرح نہ ہوئی ہو تو، اُسے بطور شہادت ملزم کے خلاف استعمال نہ کیا جا سکتا ہے.
2016 PCrLJ 187 (f)
اگر ملزم کا وکیل بہت سی Adjournments لینے کے باوجود بھی جرح نہ کرے تو بھی جرح کا حق کلوز نہ کیا جا سکتا ہے. بلکہ سرکاری خرچ پر وکیل مقرر کر کے دینا عدالت کا فرض ہے.
2011 SCMR 23
زِیر دفعہ 356 ض ف اگر شہادت پر جج صاحب کے دستخط نہ ہوں تو اُسے ملزم کے خلاف استعمال نہ کیا جا سکتا ہے.
2007 SCMR 540
سوال: جرح کے دوران کون کون سے سوالات کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور کس قسم کے سوالات گواہ سے پوچھنے پر عدالت کاروائی بھی کر سکتی ہے؟
جواب: ہمارے عدالتی نظام میں شہادت کو بہت اہمیت حاصل ہے، اور دوران شہادت گواہان پر جرح کرنا فریق ثانی کا حق ہے ۔ تاہم اس حق پر قانون شہادت میں کچھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن کا جاننا ایک عام آدمی کے لیے تو ضروری ہے تاہم وکلاء حضرات کے لیے اس امر کا جاننا از حد ضروری ہے۔
متعلقہ قانون:
قانون شہادت آرڈیننس 1964 کے آرٹیکل نمبر 141سے لے کر آرٹیکل نمبر 148تک ایسے اصول وضع کیے گئے ہیں جنکی روشنی میں کوئی بھی سوال جو کہ مقدمہ کے حوالے سے ہو پوچھا جا سکتا ہے۔
کون سا سوال کیا جا سکتا ہے؟
کسی بھی گواہ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے
آرٹیکل نمبر 141: کے تحت کوئی بھی قانونی سوال کیا جا سکتا ہے۔
اسکی زندگی میں پوزیشن اور اسکی ذات کی بابت سوال کیا جا سکتا ہے۔
اسکے کردار کو مشکوک ثابت کرنے کے لیے کوئی بھی سوال کیا جا سکتا ہے۔
آرٹیکل 142 کے تحت گواہ کو سوال کا جواب دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اگر وہ سوال متعلقہ ہو تو۔
آرٹیکل 143 کے تحت عدالت نے اس بات کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ سوال مقدمہ کے متعلقہ ہے یا نہیں۔
آرٹیکل 144 کے تحت کوئی بھی غیر ضروری اور غیر متعلقہ سوال گواہ سے نہ پوچھا جا سکتا ہے۔
آرٹیکل 145 کے تحت اگر کوئی وکیل غیر ضروری اور غیر متعلقہ سوال بار بار پوچھے تو عدالت کو۔اختیار ہے کہ وہ اسکے خلاف کارروائی کے لیے ہائیکورٹ کو اور بار کونسل کو آگاہ کر سکتی ہے۔
آرٹیکل 146 کے تحت عدالت کو اختیار ہے کہ وہ سکینڈلز پر مبنی سوالات کو روک سکے۔
آرٹیکل 147 عدالت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ایسے
مقدمات جن میں کسی شخص کی شخصیت پر بہتان لگایا گیا ہو یا اسکی حیثیت عرفی کو بدنام کیا گیا ہو ۔ عدالت اس زیر سوال حصہ کی حد تک اس متعلقہ گواہ کی شخصیت کے بارے سوالات کی اجازت دے سکتی ہے۔ تاہم اس امر کی اجازت دینے سے قبل عدالت اس اجازت کی بابت وجوہات تحریر کرے گی۔
آرٹیکل 148 کے تحت کوئی بھی سوال جو کسی کی بے عزتی پر مبنی ہو عدالت کو لازمی روکنا ہو گا۔
اپنے حقوق جان کر جیو
یاد رکھیں عدالت میں اگر آپ دانستہ طور پر جھوٹ بولیں گے تو آپ پر دفعہ 193 پاکستان پینل کوڈ کے تحت کاروائی کی جائے گی جو کہ سات سال تک قید اور جرمانہ کی صورت ہو سکتی ہے۔
جرح ریکارڈ کرتے وقت، عدالت کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ چوکس رہے اور جرح کو صحیح طریقے سے کنٹرول کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ گواہ جواب دینے سے پہلے سوال کو سمجھ گیا ہے۔
قتل کے مقدمے میں گواہ کا بیان قلمبند کرتے وقت ٹرائل کورٹ کا یہ اولین فرض ہوتا ہے، کہ وہ مقدمے کے حقائق سے بخوبی واقف ہو، کیونکہ اگر عدالت مقدمے کے حقائق سے باخبر نہیں ہوگی تو اس کے لیے یہ ناممکن ہے۔ فیصلہ کرنا کہ سوال متعلقہ تھا یا غیر متعلقہ اور پھر گواہ مکمل طور پر دفاع کے وکیل کے رحم و کرم پر ہوگا
2006 PCrLJ 12
While recording cross-examination, it was fundamental duty of Court to be vigilant and properly control cross-examination and should ensure that witness had understood question before answering same---Court should not be in hurry and should give full attention to the witness and questions put to him-Court was expected to see whether question, put to the witness during course of cross-examination, was relevant or not---Court should not allow to put lengthy and irrelevant questions to witness---Whilerecording statement of witness in a murder case, it was paramount duty of the Trial Court to be well conversant with the facts of the case, because if the Court would not be conversant with the facts of the case, then it would be impossible for it to decide, whether question was relevant or irrelevant and then witness would be totally at the mercy of counsel for defen
e.94۔ce.
دورانِ جرح کوئی Suggestion دینے کا مطلب یہ نہ ہو گا، کہ Defence کی جانب سے وقوعہ تسلیم کر لیا گیا ہے.
(2014 PCrLJ 11)
اگر شہادت پر جرح نہ ہوئی ہو تو، اُسے بطور شہادت ملزم کے خلاف استعمال نہ کیا جا سکتا ہے.
2016 PCrLJ 187 (f)
Very important
عدالت کی زمہ داری ہے کہ وہ کیس کے ہر fact کا علم ہو، اور کورٹ ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ جب گواہ پر جرح ہو رہی ہو تو کورٹ ہی دیکھی گی کہ کون سا سوال relevant ہے اور کون سا نہیں ،گواہ کو پارٹی کے کونسل کے رحموکرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے، اور ان سب کے لیے ضروری ہے کہ عدالت کو جس کیس میں جرح ہورہی ہو اس کیس کا ہر نقطہ پتہ ہو۔۔۔
2006 P Cr. L J 1294
Qanun-e-Shahadat (10 of 1984)---
---Arts. 132(2), 133 & 141---Penal Code (XLV of 1860), Ss.302 & 458, West Pakistan Arms Ordinance, (XX of 1965), S.13---Cross-examination---Basic purpose ---Duty of Court---While recording cross-examination, it was fundamental duty of the Trial Court to be vigilant and properly control cross-examination and should ensure that witness had understood the question before answering the same---Court should not be in hurry and should give full attention to the witness and questions put to him---Court was expected to see whether question, put to the witness during the course of cross-examination, was relevant or not---Court should not allow to put lengthy and irrelevant questions to witness---While recording statement of witness in a murder case, it was paramount duty of the Trial Court to be well conversant with the facts of the case, because if the Court would not be conversant with the facts of the case, then it would be impossible for it to decide, whether question was relevant or irrelevant and then witness would be totally at the mercy of counsel for defence---Practice of lengthy cross-examination, was plainly designed not for disclosure of truth, but for manipulation of an error---Use of such method must be discouraged---Basic purpose of cross-examination was to assist the court in bringing truth to light by disclosing and clarifying the matters, which witness, could wish to conceal or confuse from the motive of partisanship---Fundamental purpose of cross-examination, was to sort out the truth by disclosing or clarifying the matters---No mathematical procedure was prescribed for cross-examination and it was not necessary that witness should only reply questions according to the wish of counsel for defence---Cross-examination was a double edged sword and a witness while replying questions, could explain the matter for clarifying questions or dispute---Court was to ensure about the integrity, honour and dignity of witness---Court should also ensure that witness should not be insulted by any counsel while conducting cross-examination and there should be a difference between the witness and accused.
اگر ملزم کا وکیل بہت سی Adjournments لینے کے باوجود بھی جرح نہ کرے تو بھی جرح کا حق کلوز نہ کیا جا سکتا ہے. بلکہ سرکاری خرچ پر وکیل مقرر کر کے دینا عدالت کا فرض ہے. (2011 SCMR 23)
فوجداری مقدمات میں
'جرح نہ کرنا'
حق جواب دعویٰ ختم ہونے کے باوجود، گواہان مدعی پر، جرح کی جا سکتی ہے ۔
(2007 CLC 288)
جرم تسلیم کرنے کے ضمرے میں نہیں آتا
( PLD 2019 SC 64 )
No comments